نئی دہلی:06 /مارچ(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) یوپی کے سنت کبیر نگر کے ایم پی شرد ترپاٹھی اور ممبر اسمبلی راکیش سنگھ کے درمیان ہوئی جوتم پیزاری کو لے کرکمار وشواس نے طنز کیا ہے۔ انہوں نے اس جوتم پیزاری کے بعد ایک ٹویٹ کر کہا کہ دو قوم پرست لوگوں میں جوتم پیزاری ہو گئی۔ ایک رہنما ایک رکن اسمبلی! سرحد پر کون پہلے جائے پاکستان سے لڑنے شاید یہی مسئلہ رہا ہو گا۔آخر میں الگ زبان میں ’بھارت ماتا کی جے‘ بھی شاید سنائی دے گا۔ ایسے لوگ ملک کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ضرور بھیجتے رہیں۔ واضح ہو کہ اتر پردیش کے سنت کبیر نگر ضلع میں بی جے پی کے رہنما اور رکن اسمبلی بدھ ایک میٹنگ کے دوران آپس میں بھڑ گئے تھے۔اس دوران سنت کبیر نگر سے بی جے پی کے رہنما شرد ترپاٹھی نے اپنی ہی پارٹی کے ممبر اسمبلی راکیش سنگھ کو جوتے سے پیٹنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے حامیوں بھی آپس میں بھڑ گئے۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں رہنماؤں میں سڑک تعمیر کے نیم پلیٹ پر نام لکھوانے کو لے کر مار پیٹ ہوئی۔ اس دوران ہنگامے اور مارپیٹ سے افراتفری بھی مچ گئی۔ ارد گرد موجود لوگوں نے معاملے کو آگے بڑھنے سے بچانے کے لئے درمیان میں ہی دفاع کیا۔ اس تنازعہ کو لے کر جم کر نعرے بازی بھی ہوئی۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں شرد ترپاٹھی بار بار کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ رہنما کون ہے؟ سوال جواب کے دور کے بعد رہنما شرد ترپاٹھی اپنا آپا کھو بیٹھے اور جوتا نکال کر ممبر اسمبلی راکیش سنگھ کو پیٹنے لگے۔ اگرچہ رکن اسمبلی راکیش سنگھ بھی اپنی سیٹ سے اٹھے اور شردترپاٹھی کے پاس پہنچے اور اسی انداز میں جواب دیا، لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ ممبر اسمبلی جی نے اپنے جوتے نہیں نکا ل سکے ۔ غور طلب ہے کہ کمار وشواس نے کچھ دن پہلے ہی دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال پر بھی طنز کیا تھا۔اتحاد کو لے کر کانگریس کے انکار کے بعد کمار وشواس نے ایک کے بعد ایک ٹویٹ کر اروند کجریوال کا تمسخر کیا تھا ۔